مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا وَرَدَ لَهُ مِنَ الْفَضْلِ مِنْ مُوَافَقَتِهِ لِلْقُرْآنِ ، وَنَحْوَ ذَلِكَ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو یہ فضیلت منقول ہے کہ ان کی رائے قرآن کے مطابق ہوتی تھی اور اس حوالے سے دیگر امور کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : فَضَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِأَرْبَعٍ : بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ; أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ . وَبِذِكْرِ الْحِجَابِ ; أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْتَجِبْنَ ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ : وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ . وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ " . وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو نَهْشَلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیگر لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت حاصل ہے ۔ انہوں نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں انہیں قتل کرنے کا کہا: تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے یہ طے شدہ نہ ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس کے حوالے سے تمہیں بڑا عذاب لاحق ہونا تھا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاب کا تذکرہ کیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو یہ کہا: وہ حجاب کریں ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے ابن خطاب ! تم ہمیں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب تم لوگ ان خواتین سے کچھ مانگو تو پردے کے پیچھے سے ان سے مانگو ۔ “ اور ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حوالے سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: تھا : ” اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کی تائید فرما ۔ “ ( اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) ان کی اس رائے کے بارے میں ہے ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھی کہ انہوں نے سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونہشل ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔