حدیث نمبر: 14430
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : فَضَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِأَرْبَعٍ : بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ; أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ . وَبِذِكْرِ الْحِجَابِ ; أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْتَجِبْنَ ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ : وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ . وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ " . وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو نَهْشَلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیگر لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت حاصل ہے ۔ انہوں نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں انہیں قتل کرنے کا کہا: تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے یہ طے شدہ نہ ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس کے حوالے سے تمہیں بڑا عذاب لاحق ہونا تھا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاب کا تذکرہ کیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو یہ کہا: وہ حجاب کریں ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے ابن خطاب ! تم ہمیں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب تم لوگ ان خواتین سے کچھ مانگو تو پردے کے پیچھے سے ان سے مانگو ۔ “ اور ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے حوالے سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: تھا : ” اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کی تائید فرما ۔ “ ( اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت ) ان کی اس رائے کے بارے میں ہے ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھی کہ انہوں نے سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونہشل ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2505) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4062)»