مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا وَرَدَ لَهُ مِنَ الْفَضْلِ مِنْ مُوَافَقَتِهِ لِلْقُرْآنِ ، وَنَحْوَ ذَلِكَ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو یہ فضیلت منقول ہے کہ ان کی رائے قرآن کے مطابق ہوتی تھی اور اس حوالے سے دیگر امور کا بیان
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ ، أَتَانِي جِبْرِيلُ آنِفًا ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، حَدِّثْنِي بِفَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي السَّمَاءِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ حَدَّثْتُكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ مَا لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ - أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا - مَا نَفِدَتْ فَضَائِلُ عُمَرَ ، وَإِنَّ عُمَرَ لَحَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَنْزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! بھی جبرائیل میرے پاس آیا تو میں نے کہا: اے جبرائیل تم مجھے آسمان میں عمر بن خطاب کے فضائل کے بارے میں بتاؤ ، تو اس نے جواب دیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر میں آپ کو اتنے عرصے تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرتا رہوں ، جتنے عرصے تک سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں موجود رہے تھے ، یعنی ایک ہزار سال سے پانچ سال کم ، تو بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل ختم نہیں ہوں گے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یا شاید سیدنا جبرائیل نے یہ کہا: ) کہ عمر ، ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل عنزی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔