حدیث نمبر: 14432
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ ، أَتَانِي جِبْرِيلُ آنِفًا ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، حَدِّثْنِي بِفَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي السَّمَاءِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ حَدَّثْتُكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ مَا لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ - أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا - مَا نَفِدَتْ فَضَائِلُ عُمَرَ ، وَإِنَّ عُمَرَ لَحَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَنْزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! بھی جبرائیل میرے پاس آیا تو میں نے کہا: اے جبرائیل تم مجھے آسمان میں عمر بن خطاب کے فضائل کے بارے میں بتاؤ ، تو اس نے جواب دیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر میں آپ کو اتنے عرصے تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرتا رہوں ، جتنے عرصے تک سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں موجود رہے تھے ، یعنی ایک ہزار سال سے پانچ سال کم ، تو بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل ختم نہیں ہوں گے ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یا شاید سیدنا جبرائیل نے یہ کہا: ) کہ عمر ، ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل عنزی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14432
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1603) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1593)»