مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14387
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : بِلَالٌ . فَمَضَيْتُ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ النِّسَاءِ وَالْأَغْنِيَاءِ . قِيلَ لِي : أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ ; فَهُمْ هَاهُنَا يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ ، وَأَمَّا النِّسَاءُ ; فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ " . قَالَ : " ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ ، فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي ، فَرَجَحْتُ بِهَا . ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ . ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا ، فَرَجَحَ عُمَرُ . وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَجَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ ، فَقُلْتُ : عَبْدَ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ] ، مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ . قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِمَا مُطَّرِحُ بْنُ زِيَادٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَكِلَاهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَمِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى ضَعْفِ هَذَا : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَحَدُ الْعَشْرَةِ ، وَهُمْ أَفْضَلُ الصَّحَابَةِ . وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بلال ہیں ، میں گیا ، تو اہل جنت میں اکثریت مہاجرین کے غریب لوگوں اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی اور میں نے وہاں سب سے زیادہ کم تعداد خوشحال لوگوں اور خواتین کی پائی ، مجھ سے کہا: گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے ، تو انہیں وہاں روک لیا گیا ہے ، اور ان سے حساب لیا جائے گا ، اور تفتیش کی جائے گی ، اور جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے ، جب میں دروازے کے پاس پہنچا تو میرے پاس ایک ترازو لایا گیا ، جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا ، اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا ، تو میں ان سب سے وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا ، اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لایا گیا ، اور ان لوگوں کو رکھا گیا ، تو عمر والا پلڑا وزنی تھا ، پھر میرے سامنے میری امت کے ایک ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ کچھ دیر کے بعد آیا ، میں نے کہا: عبدالرحمن ( کیا ہوا ؟ ) تو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس وقت پہنچ پایا ہوں جب میں یہ گمان کر چکا تھا کہ میں کبھی بھی آپ کے پاس نہیں پہنچ سکوں گا ، صرف اس صورت میں پہنچ سکوں گا ، جب بوڑھا ہو جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا تھی ؟ انہوں نے بتایا : میرے مال کی کثرت ( وجہ تھی ) مجھ سے حساب لیا جا رہا تھا اور تفتیش کی جا رہی تھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی روایات کی سند میں ایک راوی مطرح بن زیاد ہے ، اور ایک راوی علی بن یزید الہانی ، ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ، اور جو بات اس روایت کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ہوتا ہے ، وہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ، اور فضیلت رکھنے والے صحابہ میں سے ہیں ، باقی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7923) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (259/5)»