مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14388
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُرِيتُ أَنِّي وُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلْتُهَا ، ثُمَّ وُضِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، ثُمَّ وُضِعَ عُمَرُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، وَوُضِعَ عُثْمَانُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، تو میرا پلڑا وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر ان سے وزنی تھا ، پھر عمر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر عثمان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر میزان کو اٹھا لیا گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : وہ صدوق تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14388
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (86/20)»