مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14386
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدِ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ : " رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ . فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ . وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهَذِهِ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا ، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ . ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُمْرَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ . ثُمَّ رُفِعَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَرَجَحَ بِهِمْ " . فِي الْجَمِيعِ . وَقَالَ : " ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ بِهِمْ ، ثُمَّ رُفِعَتْ " ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن سورج نکلنے کے بعد صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح صادق سے کچھ پہلے میں نے دیکھا کہ جیسے مجھے مقالید اور موازین عطا کیے گئے ہیں ، جہاں تک مقالید کا سوال ہے ، تو اس سے مراد چابیاں ہیں ، اور جہاں تک موازین کا معاملہ ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے ، تو مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو میں ان سب سے زیادہ وزنی تھا اور میرا پلڑا بھاری ہو گیا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا تو وہ وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، پھر عثمان کو لایا گیا ، اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ان سب سے زیادہ وزنی تھا “ تمام روایت میں یہی الفاظ ہیں ، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر عثمان کو لایا گیا اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو عثمان ان سب سے وزنی تھا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (5469)»