مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدِ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ : " رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ . فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ . وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهَذِهِ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا ، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ . ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُمْرَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ . ثُمَّ رُفِعَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَرَجَحَ بِهِمْ " . فِي الْجَمِيعِ . وَقَالَ : " ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ بِهِمْ ، ثُمَّ رُفِعَتْ " ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن سورج نکلنے کے بعد صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح صادق سے کچھ پہلے میں نے دیکھا کہ جیسے مجھے مقالید اور موازین عطا کیے گئے ہیں ، جہاں تک مقالید کا سوال ہے ، تو اس سے مراد چابیاں ہیں ، اور جہاں تک موازین کا معاملہ ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے ، تو مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو میں ان سب سے زیادہ وزنی تھا اور میرا پلڑا بھاری ہو گیا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا تو وہ وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، پھر عثمان کو لایا گیا ، اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ان سب سے زیادہ وزنی تھا “ تمام روایت میں یہی الفاظ ہیں ، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر عثمان کو لایا گیا اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو عثمان ان سب سے وزنی تھا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔