مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14385
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يُنْكِرُهُ ، مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا ، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ وَالرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ اسْتَوَى النَّاسُ فَيَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يُنْكِرُهُ عَلَيْنَا . وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہم لوگ یہ کہا: کرتے تھے کہ اس امت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے فرد سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سنتے تھے اور آپ اس کا انکار نہیں کرتے تھے ، ہمارے علم کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ، کسی جان کو ناحق طور پر قتل نہیں کیا ، اصل معاملہ صرف اس مال کا ہے کہ اگر وہ یہ مال تمہیں دے دیتے ، تو تم نے راضی ہونا تھا اور اگر وہ قریش کو دے دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو ، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم لوگ اہل فارس اور اہل روم کی طرح ہو جاؤ ، کہ جنہوں نے اپنے کسی بھی امیر کو نہیں چھوڑا ، اسے قتل کروا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم ( اس امت میں افضل ہیں ) اور پھر سب لوگ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اس حوالے سے ہم پر انکار نہیں کیا ۔ “ امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی کی معجم کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14385
درجۂ حدیث محدثین: ورجاله وثقوا، وفيهم خلاف.
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5602 و 5601) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13132)»