مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14376
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ " . فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، آپ ایک باغ میں تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم دروازے کا خیال رکھنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے ، آپ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ ان صاحب نے بتایا : ابوبکر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی جنت کی خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ تو ان صاحب نے کہا: عمر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ بھی اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، راوی کہتے ہیں : پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : عثمان ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اجازت دو ، اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے ایک آزمائش کا سامنا بھی ہو گا ، میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، انہیں جنت کی خوشخبری دی وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی ) فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14376
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (408/3)»