مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات

بَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے

حدیث نمبر: 14377
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَافِ وَبِلَالٌ مَعَهُ ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ " . فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسواف کے مقام پر ٹھہرے ، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! تم اسے اجازت دو اور تم اسے جنت کی خوشخبری دو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف آ کے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو ، وہ اندر آئے اور انہوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے یہ بتانا کہ اُسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدمقابل بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد علی بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔