حدیث نمبر: 14375
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَشٍّ مِنْ حِشَّانِ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ عَمَرُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ خَفِيضُ الصَّوْتِ فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فِي بَلْوَى تُصِيبُهُ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا ، حَتَّى جَلَسَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي أَوَاخِرَ مَنَاقِبِ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اندر آنے کی اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے ان صاحب کو اندر آنے کے لئے کہا: تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور تشریف فرما ہو گئے ، پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انھیں اندر آنے کے لئے کہا: اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ وہ بھی تشریف فرما ہوئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور یہ بتانا کہ اسے ایک آزمائش لاحق ہو گی ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور یہ بتایا : انہیں ایک آزمائش لاحق ہو گی ، تو انہوں نے یہ کہا: اے اللہ ! صبر کا سوال ہے ، یہاں تک کہ وہ تشریف فرما ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں ہوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی بعض اسانید اور امام أحمد کی بعض اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (6548)»