مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَشٍّ مِنْ حِشَّانِ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ عَمَرُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ خَفِيضُ الصَّوْتِ فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فِي بَلْوَى تُصِيبُهُ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا ، حَتَّى جَلَسَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي أَوَاخِرَ مَنَاقِبِ عُمَرَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اندر آنے کی اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے ان صاحب کو اندر آنے کے لئے کہا: تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور تشریف فرما ہو گئے ، پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انھیں اندر آنے کے لئے کہا: اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ وہ بھی تشریف فرما ہوئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور یہ بتانا کہ اسے ایک آزمائش لاحق ہو گی ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور یہ بتایا : انہیں ایک آزمائش لاحق ہو گی ، تو انہوں نے یہ کہا: اے اللہ ! صبر کا سوال ہے ، یہاں تک کہ وہ تشریف فرما ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں ہوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی بعض اسانید اور امام أحمد کی بعض اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئے گی ۔