مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ أَبَا بَكْرٍ فَتَجِدَهُ فِي دَارِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ . ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ الثَّنِيَّةَ فَتَلْقَى عُمَرَ فِيهَا عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ . ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ السُّوقَ فَتَلْقَى عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَامَ إِلَيْهِ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ الثَّنِيَّةَ فَإِذَا فِيهَا عُمَرُ عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَانْطَلَقَ . ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ السُّوقَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجِئْنَا جَمِيعًا حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَيْدًا أَتَانِي فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَأَيُّ بَلَاءٍ يُصِيبُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَغَنَّيْتُ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ ، وَلَا مَسَسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ . فَقَالَ : " هُوَ ذَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَزَادَ فِيهِ : " إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِذَا أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ " . وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ تَضْعِيفُهُ . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم جاؤ ، یہاں تک کہ تم ابوبکر کے پاس پہنچ جاؤ ، تم اسے اپنے گھر میں احتباء کی حالت میں بیٹھا ہوا پاؤ گے ، تم اسے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے ، اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا ، یہاں تک کہ تم گھاٹی کے پاس آؤ گے وہاں تمہاری ملاقات عمر سے ہو گی ، جو ایک گدھے پر سوار ہو گا ، اور اس کی پیشانی چمک رہی ہو گی ( یعنی آگے کے حصے پر بال نہیں ہوں گے ) تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا یہاں تک کہ تم بازار آؤ گے ، وہاں تم عثمان کو خرید و فروخت کرتے ہوئے پاؤ گے ، تم اس سے یہ کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے اور وہ یہ فرما رہے تھے کہ تم ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کرو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں روانہ ہوا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے انہیں اپنے گھر میں احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے پایا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے انہیں کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں فلاں جگہ پر ہیں ، تو وہ اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، پھر میں گھاٹی کے پاس آیا ، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے جو ایک گدھے پر سوار تھے اور ان کے سر کے آگے والا حصہ چمک رہا تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے جواب دیا : فلاں جگہ پر ہیں ، پھر وہ بھی چلے گئے ، پھر میں روانہ ہوا ، یہاں تک کہ بازار آیا ، وہاں میری ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، جو خرید و فروخت کر رہے تھے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے اور یہ فرمایا ہے کہ ایک زبردست آزمائش کے بعد آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا فلاں جگہ پر ہیں ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر ہم سب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یا رسول اللہ ! زید میرے پاس آیا اور اس نے یہ کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کریں ، یا رسول اللہ ! مجھے کون سی آزمائش لاحق ہو گی ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو میں نے کوئی زیادتی کی ہے ، نہ میں نے اس کی آرزو کی ہے ، اور جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے ، میں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو کبھی نہیں چھوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا ( یعنی تمہیں آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں تو تم اسے نہ اتارنا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین سے منقول ایک روایت اس کی ، توثیق کی ہے ، جبکہ ان سے مشہور روایت یہی منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔