مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14373
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتْ حِرَاءُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صَدِيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم تھے ، پہاڑ نے حرکت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے حراء تم جمے رہو ! تم پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔