مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَسَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ ، إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنَّهُمَا أَبْلَغُ ؟ قَالَ : " لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا ، إِنَّمَا مَنْزِلَتُهُمَا مِنَ الدِّينِ مَنْزِلَةُ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں معاذ بن جبل کو سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو ، ابی بن کعب کو اور عبداللہ بن مسعود کو مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں ، جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیونکہ وہ دونوں زیادہ اچھے طریقے سے تبلیغ کر سکیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا کیونکہ دین میں ان دونوں کی حیثیت وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔