مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14354
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ فِي النَّاسِ مُعَلِّمِينَ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ " فَقِيلَ : أَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَلَا تَبْعَثُ بِهِمَا ؟ قَالَ : " إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں لوگوں میں معلمین کو بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ۔ عرض کی گی : آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دونوں دین میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو جسم میں سر کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ایلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔