حدیث نمبر: 14352
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، وَمُعَاذٍ ، وَأُبَيٍّ ، وَسَالِمٍ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا غِنًى عَنْهُمَا ; إِنَّمَا مَثَلُهُمَا مِنَ الدِّينِ كَمَثَلِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ضَعِيفَةٌ ، تَأْتِي فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي أَوَّلِ الْمُجَلَّدِ الَّذِي يَلِي هَذَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن چار لوگوں سے سیکھو ! ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) معاذ ( بن جبل ) ابی ( بن کعب ) اور سالم ( مولیٰ ابوحذیفہ ) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو لوگوں کی طرف بھیجا تھا ، ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی مثال دین میں وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد ہے ، جو بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں انہوں نے ایک طریق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ، جو ضعیف ہے ، اور وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے فضائل سے متعلق باب میں اگلی جلد کے آغاز میں آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔