مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، وَمُعَاذٍ ، وَأُبَيٍّ ، وَسَالِمٍ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا غِنًى عَنْهُمَا ; إِنَّمَا مَثَلُهُمَا مِنَ الدِّينِ كَمَثَلِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ضَعِيفَةٌ ، تَأْتِي فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي أَوَّلِ الْمُجَلَّدِ الَّذِي يَلِي هَذَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن چار لوگوں سے سیکھو ! ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) معاذ ( بن جبل ) ابی ( بن کعب ) اور سالم ( مولیٰ ابوحذیفہ ) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو لوگوں کی طرف بھیجا تھا ، ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی مثال دین میں وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد ہے ، جو بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں انہوں نے ایک طریق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ، جو ضعیف ہے ، اور وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے فضائل سے متعلق باب میں اگلی جلد کے آغاز میں آئے گا ۔