حدیث نمبر: 14351
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ قَدْ أَهَمَّتْهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَيْنِ ؟ فَقَالَ : " كَيْفَ أَبْعَثُ هَذَيْنِ وَهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے سلسلے میں کسی صاحب کو بھیجنے کا ارادہ کیا ، وہ ایک اہم کام تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی آپ ان دونوں حضرات کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان دونوں کو کیسے بھیج سکتا ہوں ؟ جب کہ ان دونوں کی حیثیت دین میں وہی ہے ، جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس حدیث کا ایک طریق صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں موجود ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14351
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً