مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ قَدْ أَهَمَّتْهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَيْنِ ؟ فَقَالَ : " كَيْفَ أَبْعَثُ هَذَيْنِ وَهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے سلسلے میں کسی صاحب کو بھیجنے کا ارادہ کیا ، وہ ایک اہم کام تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی آپ ان دونوں حضرات کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان دونوں کو کیسے بھیج سکتا ہوں ؟ جب کہ ان دونوں کی حیثیت دین میں وہی ہے ، جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس حدیث کا ایک طریق صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں موجود ہے ۔