مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ ، وَالْأَنْصَارِيُّ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ الثَّانِيَةَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَقُمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ لَمَّا لَمْ يَأْذَنْ لَهُ . فَقَامَ الْآخَرُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ وَخَرَجَ فِي أَثَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُهُ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، وَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ فِي نَهْرٍ إِلَى جَانِبِ دَارِهِ ، فَأَقْبَلَ وَقَدِ اغْتَسَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدِ اغْتَسَلَ وَمَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ " ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَعْتَذِرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِأَمْرِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَسَلْتَ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْكَ الْغُسْلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَفِي الْبَزَّارِ عَنْهُ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَأَقْحَطَ فَلَا غُسْلَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبٍ ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلوایا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس چیز نے تمہیں روک لیا تھا ؟ اس نے بتایا : جب آپ کا پیغام رساں میرے پاس آیا ، میں اس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھا میں نے غسل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہونا تھا ، اگر تم غسل نہ بھی کرتے ، جب کہ تمہیں انزال نہ ہوا ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انصار ایسا ہی کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔