مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1436
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَذَكَرَ كَلَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَقْحَطَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَكْسَلَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَبَا إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، پھر وہ باہر آیا اور اس نے کلام ( یعنی تاخیر کی وجہ کو ) ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو انزال نہ ہوا ہو ، تو اس پر غسل ( لازم ) نہیں ہو گا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ابواسرائیل ملائی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔