مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا حَبَسَكَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ حِينَ أَتَانِي رَسُولُكَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ : " وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَغْتَسِلُ مَا لَمْ تُنْزِلْ " . قَالَ : فَكَانَ الْأَنْصَارُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلوایا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس چیز نے تمہیں روک لیا تھا ؟ اس نے بتایا : جب آپ کا پیغام رساں میرے پاس آیا ، میں اس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھا میں نے غسل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہونا تھا ، اگر تم غسل نہ بھی کرتے ، جب کہ تمہیں انزال نہ ہوا ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انصار ایسا ہی کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔