حدیث نمبر: 14347
وَعَنْ أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوارویٰ دوسی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تمہارے ذریعے میری تائید کی ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2490) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (396/22)»