مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14348
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا ، وَلَوْلَا أَنَّكُمَا تَخْتَلِفَانِ عَلَيَّ مَا خَالَفْتُكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ كَاتِبُ مَالِكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تم دونوں کے ذریعے میری تائید کی اور اگر تم دونوں نے میرے سامنے ایک دوسرے سے مختلف رائے نہ دی ہوتی تو میں نے تم دونوں کی ( متفقہ رائے ) کے برخلاف نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوحبیب ہے جو مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔