مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكَيْنِ ، أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ : جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ ، وَنَبِيَّانِ : أَحَدُهُمَا : يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ " . وَذَكَرَ إِبْرَاهِيمَ وَنُوحًا . " وَلِي صَاحِبَانِ : أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ " . وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” آسمان میں دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور وہ دونوں ٹھیک ہوتے ہیں ، ایک جبرائیل ہے ، اور ایک میکائیل ہے ، اور دو نبی ہیں ، ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور دونوں ٹھیک ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا ( اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ) میرے دو ساتھی ہیں ان میں سے ایک سختی کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا کہتا ہے اور وہ دونوں ٹھیک ہیں “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔