حدیث نمبر: 1433
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِرَأْسِكَ ؟ " قَالَ : دَعَوْتَنِي وَأَنَا مَعَ أَهْلِي ، فَخِفْتُ أَنْ أَحْتَبِسَ عَلَيْكَ فَعَجِلْتُ ، فَقُمْتُ وَصَبَبْتُ عَلَيَّ الْمَاءَ ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَقَالَ : " هَلْ كُنْتَ أَنْزَلْتَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَلَا تَغْتَسِلَنَّ ، اغْسِلْ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَزَيْدٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دروازے پر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا ، وہ شخص اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، اُس نے بیوی کی قربت میں آپ کو سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سلام کیا ، تو اُس شخص نے ( سلام کا ) جواب دے دیا ، لیکن اُٹھا نہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آنے کا نہیں کہا: گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، وہ شخص فارغ ہونے سے پہلے اُٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتا ہوا آپ کے پیچھے آیا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو وہ کھڑا ہوا تھا ، ہم اس کے پاس اکٹھے ہو گئے ، اس نے اپنے گھر کے پاس موجود ایک ندی میں غسل کیا تھا ، جب وہ آیا تو وہ غسل کر چکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے غسل کر لیا ہے ، حالانکہ اس پر غسل واجب نہیں ہوا ہے ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معذرت کرنے کے لیے آیا ، اس نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے غسل کر لیا ، حالانکہ تم پر غسل واجب نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرے ، اور اُسے انزال نہ ہو ، تو غسل لازم نہیں ہو گا “ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف