حدیث نمبر: 14338
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ ، ثُمَّ وَجَّهَ بِبَرَاءَةٍ مَعَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتَ عَلَيَّ فِي شَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وَعَلَى الْحَوْضِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا أَطْوَلَ مِنْهُ . وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحج مقرر کیا ، پھر آپ نے برأت ( لاتعلقی ) کا اعلان دے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے میرے خلاف کوئی چیز محسوس کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو اور حوض پر بھی ہو گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ، اور اس سے زیادہ طویل ہے ، اور اس روایت میں اضافہ پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2485)»