مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ ; فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا . قَالَتْ : فَمَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَسِنَانِهَا . ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ : كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا . ¤ قَالَ الرِّيَاشِيُّ : يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْبَارِعِ الَّذِي لَا يُشَبَّهُ بِهِ أَحَدٌ : نَسِيجُ وَحْدِهِ ، وَعُيَيْرُ وَحْدِهِ ، وَيُقَالُ : جَلِيسُ وَحْدِهِ ، وَقَالَ الشَّاعِرُ : ¤ جَاءَتْ بِهِ مُعْتَجِرًا بِبُرْدِهِ سَفْوَاءَ تُرْدِي بِنَسِيجِ وَحْدِهِ يَقْدَحُ قَيْسًا كُلَّهَا بِزَنْدِهِ ¤ مَنْ يَلْقَهُ مِنْ بَطَلٍ يَسْرَنْدِهِ . ¤ أَيْ يَعْلُوهُ قَالَ الرِّيَاشَيُّ : وَأَنْشَدَنِي الْأَصْمَعِيُّ : ¤ مَا بَالُ هَذَا الْيَوْمِ يَغْرَنْدِينِي أَدْفَعُهُ عَنِّي وَيَسْرَنْدِينِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو عرب مرتد ہو گئے اور نفاق بلند ہو گیا ، میرے والد کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر وہ صورتحال مضبوط پہاڑوں پر نازل ہوتی ، تو انہیں بھی توڑ کے رکھ دیتی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے جس بھی نقطہ کے بارے میں خلل کا اظہار کیا ، تو میرے والد اس کے تمام تر لوازمات کو لے کر وہاں تک پہنچے ، جن کے ذریعے اسے ٹھیک کیا جا سکے ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی : اللہ کی قسم ! وہ بڑی ہمت والے تھے ، اور بے مثل شخصیت کے مالک تھے ، انہوں نے تمام امور کے لیے مناسب تیاری کی ۔ یہاں ریاشی نامی راوی نے یہ بات کہی ہے : جب کوئی شخص ایسا ماہر ہو کہ کسی کو اُس کے مشابہ قرار نہ دیا جا سکے ، تو اس کے یہ لفظ استعمال کیے جاتے ہیں : ” نسیج وحده - عییر وحده - جحیش وحده ۔ “ کسی شاعر نے کہا: ہے : ” وہ سواری اس شخص کو لے کر آئی ، جس شخص نے اپنی چادر لپیٹی ہوئی تھی اور وہ سواری چھوٹی پیشانی والی تھی ، وہ سواری تیزی سے ایک بے مثال شخص کو لے کر آئی ، وہ پتھر کو رگڑ کر ، قیس کو آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے ، اور جو بھی سورما اُس کے سامنے آتا ہے ، وہ اسے سرنگوں کر لیتا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یعنی وہ اس پر غالب آ جاتا ہے ۔ ریاشی بیان کرتے ہیں : اصمعی نے مجھے یہ اشعار سنائے : ” اس نیند کا کیا معاملہ ہے ؟ جو مجھ پر طاری ہو رہی ہے ، میں اُسے اپنے سے پرے کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ مجھ پر غالب آ رہی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔