مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : جِئْتُ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى آتِيَهُ ؟ " قَالَ : بَلْ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ . قَالَ : " إِنَّا نَحْفَظُهُ لِأَيَادِي ابْنِهِ عِنْدَنَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْفِهْرِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( میں فتح مکہ کے دن ) سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ان بزرگوار کو ( گھر میں ) کیوں نہیں رہنے دیا ، میں ان کے پاس چلا جاتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : بلکہ یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی خدمت میں آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے ان کا خیال رکھنا تھا ، کیونکہ ہمارے نزدیک ان کے صاحبزادے کی بڑی حیثیت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک فہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، لیکن یہ روایت منقطع ہے ۔