مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا يَنَالُونَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، فَبَعَثَتْ إِلَى أَزْفَلَةٍ مِنْهُمْ ، فَسَدَلَتْ أَسْتَارَهَا ، وَعَذَلَتْ وَقَرَّعَتْ ، وَقَالَتْ : أَبِي وَمَا أَبِيهِ ، أَبِي لَا تُعْطُوهُ الْأَيْدِي . هَيْهَاتَ وَاللَّهِ ، ذَاكَ طَوْدٌ مَنِيفٌ ، وَظِلٌّ مَدِيدٌ ، أَنْجَحَ وَاللَّهِ إِذْ كَذَّبْتُمْ ، وَسَبَقَ إِذْ وَنَيْتُمْ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ ، فَتَى قُرَيْشٍ نَاشِئًا ، وَكَهْفًا كَهْلًا . يَفُكُّ عَانِيَهَا ، وَيَرِيشُ مُمْلِقَهَا ، وَيَرْأَبُ رَوْعَهَا ، وَيَلُمُّ شَعَثَهَا حَتَّى حَلِيَتْهُ قُلُوبُهَا ، ثُمَّ اسْتَشْرَى فِي دِينِهِ فَمَا بَرِحَتْ شَكِيمَتُهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ حَتَّى اتَّخَذَ بِفَنَائِهِ مَسْجِدًا يُحْيِي فِيهِ مَا أَمَاتَ الْمُبْطِلُونَ ، وَكَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - غَزِيرَ الدَّمْعَةِ ، وَقِيدَ الْجَوَانِحِ ، شَجِيَّ النَّشِيجِ ، فَاصْفَقَّتْ إِلَيْهِ نِسْوَانُ مَكَّةَ وَوِلْدَانُهَا يَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَسْتَهْزِئُونَ بِهِ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَكْبَرَتْ ذَلِكَ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ; فَحَنَتْ قِسِيَّهَا ، وَفَوَّقَتْ سِهَامَهَا ، وَامْتَثَلُوهُ غَرَضًا فَمَا فَلُّوا لَهُ شَبَاةً ، وَلَا قَصَفُوا لَهُ قَنَاةً ، وَمَرَّ عَلَى سِيسَائِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ ، وَأَلْقَى بَرْكَهُ ، وَرَسَتْ أَوْتَادُهُ ، وَدَخَلَ النَّاسُ فِيهِ أَفْوَاجًا ، وَمِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ أَرْسَالًا وَأَشْتَاتًا ; اخْتَارَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ مَا عِنْدَهُ ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ضَرَبَ الشَّيْطَانُ رِوَاقَهُ ، وَنَصَبَ حَبَائِلَهُ ، وَمَدَّ طُنُبَهُ ، وَأَجْلَبَ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ ; فَاضْطَرَبَ حَبْلُ الْإِسْلَامِ ، وَمَرَجَ عَهْدُهُ ، وَمَاجَ أَهْلُهُ ، وَعَادَ مَبْرَمُهُ أَنْكَاثًا ، وَبَغَى الْغَوَائِلُ ، وَظَنَّتِ الرِّجَالُ أَنْ قَدْ أَكْثَبَتْ أَطْمَاعُهُمْ ، وَلَاتَ حِينَ [ الَّتِي ] يَرْجِعُونَ ، وَإِنِّي وَالصِّدِّيقُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَامَ حَاسِرًا مُشَمِّرًا ، فَرَفَعَ حَاشِيَتَهُ ، وَجَمَعَ قَطْرَتَهُ ، فَرَدَّ يُسْرَ الْإِسْلَامِ عَلَى غِرَّةٍ ، وَلَمَّ شَعَثَهُ بِطَيِّهِ ، وَأَقَامَ أَوَدَهُ بِثِقَافِهِ ; فَابْدَعَرَّ النِّفَاقُ بِوَطْأَتِهِ ، وَانْتَاشَ الدِّينُ بِنَعْشِهِ . فَلَمَّا رَاحَ الْحَقُّ عَلَى أَهْلِهِ ، وَأَقَرَّ الرءُوسَ عَلَى كَوَاهِلِهَا ، وَحَقَنَ الدِّمَاءَ فِي أَهَبِهَا ، حَضَرَتْ مَنِيَّتُهُ ، فَسَدَ ثُلْمَتَهُ بِشَقِيقِهِ فِي الْمَرْحَمَةِ وَنَظِيرِهِ فِي السِّيرَةِ وَالْمَعْدَلَةِ - ذَاكَ ابْنُ الْخَطَّابِ ، لِلَّهِ أُمٌُّ حَمَلَتْ بِهِ وَدَرَّتْ عَلَيْهِ لَقَدْ أَوْحَدَتْ بِهِ ; فَفَتَحَ الْكَفَرَةَ وَذَيْخَهَا ، وَشَرَّدَ الشِّرْكَ شَذَرَ مَذَرَ ، وَبَعَجَ الْأَرْضَ ; فَقَاءَتْ أُكُلَهَا ، وَلَفِظَتْ خَبِيئَهَا تَرْأَمُهُ ، وَيُصْدِفُ عَنْهَا وَتَصَدَّى لَهُ وَيَأْبَاهَا ، ثُمَّ وَرِعَ فِيهَا ، ثُمَّ تَرَكَهَا كَمَا صَحِبَهَا ، فَأَرُونِي مَاذَا تَقُولُونَ ؟ وَأَيَّ يَوْمَيْ أَبِي تَنْقِمُونَ ؟ ! أَيَوْمَ إِقَامَتِهِ إِذْ عَدَلَ فِيكُمْ ، أَوْ يَوْمَ ظَعْنِهِ إِذْ نَظَرَ لَكَمْ ؟ أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ السَّدُوسِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا ابْنَهُ . ¤علی بن أحمد سدوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا ، انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میرے والد ، میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے ، اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے ، جب تم لوگوں نے جھٹلایا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی ، جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی ، تو انہوں نے سبقت حاصل کی ، ایک ایسی سبقت جو کسی شہسوار کی ہوتی ہے ، جب اُس نے دور تک جانا ہو ، وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے ، اور بڑھاپے میں اُن کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے ، انہوں نے ( لوگوں ) کے قیدیوں کو آزاد کروایا ، اور ان ( لوگوں ) کے غریبوں کو مال دیا ، وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے ، اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل ہو گئے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا ، اور اللہ کی ذات کے بارے میں اُن کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی ، جس میں وہ ، اُس چیز ( یعنی عبادت ) کو زندہ کرتے تھے ، جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے ، وہ ایسے ( فرد ) تھے کہ اُن کے آنسو بہتے رہتے تھے ، اور ان کا دل نرم تھا ، غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی ، مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے بچے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور اُن کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان ( کفار ) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں اُن کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے رہیں ، یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری ، انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا ، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنا لیا ، تو قریش کے لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا ، اور نہ ہی اُن کے لئے کوئی نیزہ توڑا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے طریقے پر گامزن رہے ، یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا ، دین اپنی جگہ پر جم گیا ، اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے ، اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا ، لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے ، پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا ، جو اس کے پاس ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا ، اس نے اپنا جال بچھا لیا ، اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں اور اپنے گھر سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا ، وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا ، اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا ، اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے ، اور ان کا اجتماع انتشار میں بدل گیا ، تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ ، یا مقاصد کو حاصل کر لیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ، لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا ، جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے درمیان موجود تھے ، وہ آستینیں چڑھا کر اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کو سی لیا ، اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا ( یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے ) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا ، اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا ، اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا ، تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی ، اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا ، جس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا ، اور سروں کو کندھوں پر جما دیا ، اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا ، تو ان کا آخری وقت آ گیا ، تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا ، جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے ، اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے ، اور وہ خطاب کے صاحبزادے ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔ اس ماں کے کیا کہنے ؟ جو ان کے حوالے سے حاملہ ہوئیں ، جس نے انہیں دودھ پلایا ، اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا ، انہوں نے کافروں کو فتح کیا اور انہیں ذلت کا شکار کیا ، اور اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اُس کا ٹھکانہ نہ رہا ، اور انہوں نے زمین کو چیر دیا ( یعنی اسے فتح کر لیا ) تو اُس ( زمین ) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کو قے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے ، نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ) اُس ( یعنی دنیا ) نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس ( دنیا ) سے اعراض کیا ، وہ ( دنیا ) اُن کے سامنے آئی ، تو انہوں نے اس کو انکار کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیزگاری کو اختیار کیا ، اور پھر اُسے اُسی حالت میں چھوڑا ، جس حالت میں وہ اُس ( دنیا ) کے ساتھ رہے تھے ۔ تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ ! کہ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہیں میرے والد کے دودنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے ؟ ان کے مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے ؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا ، یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی ؟ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے ، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، أحمد سدوی نامی راوی نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، میں اُس سے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں ۔