حدیث نمبر: 14335
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ صَفْوَانَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ سُجِّيَ بِثَوْبٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ بِالْبُكَاءِ ، وَدُهِشَ كَيَوْمِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُسْرِعًا مُسْتَرْجِعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : الْيَوْمَ انْقَطَعَتْ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ الَّذِي هُوَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ; كُنْتَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلَامًا ، وَأَخْلَصَهُمْ إِيمَانًا ، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا ، وَأَخْوَفَهُمْ لِلَّهِ ، وَأَعْظْمُهُمْ غَنَاءً ، وَأَحْوَطَهُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْدَبَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَآمَنَهُمْ عَلَى أَصْحَابِهِ ، وَأَحْسَنَهُمْ صُحْبَةً ، وَأَفْضَلَهُمْ مَنَاقِبَ ، وَأَكْثَرَهُمْ سَوَابِقَ ، وَأَرْفَعَهُمْ دَرَجَةً ، وَأَقْرَبَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشْبَهَهُمْ بِهِ هَدْيًا وَخُلُقًا وَسَمْتًا ، وَأَوْثَقَهُمْ عِنْدَهُ ، وَأَشْرَفَهُمْ مَنْزِلَةً ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَيْهِ مَنْزِلَةً ; فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَعَنْ رَسُولِهِ ، وَعَنِ الْمُسْلِمِينَ ، خَيْرًا صَدَّقْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَذَّبَهُ النَّاسُ ; فَسَمَّاكَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : صِدِّيقًا ، فَقَالَ : وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَدَّقَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ، آسَيْتَهُ حِينَ بَخِلُوا ، وَقُمْتَ مَعَهُ حِينَ عَنْهُ قَعَدُوا ، وَصَحِبْتَهُ فِي الشِّدَّةِ أَكْرَمَ الصُّحْبَةِ ، وَالْمُنَزِّلَ عَلَيْهِ السِّكِّينَةَ ، رَفِيقَهُ فِي الْهِجْرَةِ وَمَوَاطِنِ الْكُرْبَةِ ، خَلَفْتَهُ فِي أُمَّتِهِ بِأَحْسَنِ الْخِلَافَةِ حِينَ ارْتَدَتِ النَّاسُ فَقُمْتَ بِدِينِ اللَّهِ قِيَامًا لَمْ يَقُمْهُ خَلِيفَةُ نَبِيٍّ قَطُّ ، فَوَثَبْتَ حِينَ ضَعُفَ أَصْحَابُكَ ، وَنَهَضْتَ حِينَ وَهَنُوا ، وَلَزِمْتَ مِنْهَاجَ رَسُولِهِ بِرَغْمِ الْمُنَافِقِينَ وَغَيْظِ الْكَافِرِينَ ، فَقُمْتَ بِالْأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا ، وَمَضَيْتَ بِنُورِ اللَّهِ إِذْ وَقَفُوا . كُنْتَ أَعْلَاهُمْ فَوْقًا ، وَأَقَلَّهُمْ كَلَامًا ، وَأَصْوَبَهُمْ مَنْطِقًا ، وَأَطْوَلَهُمْ صَمْتًا ، وَأَبْلَغَهُمْ قَوْلًا ، وَكُنْتَ أَكْثَرَهُمْ رَأْيًا وَأَشْجَعَهُمْ قَلْبًا ، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا ، وَأَحْسَنَهُمْ عَمَلًا ، وَأَعْرَفَهُمْ بِالْأُمُورِ . كُنْتَ لِلدِّينِ يَعْسُوبًا ، وَكُنْتَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَبًا رَحِيمًا ; إِذْ صَارُوا عَلَيْكَ عِيَالًا فَحَمَلْتَ أَثْقَالَ مَا عَنْهُ ضَعُفُوا ، وَحَفِظْتَ مَا أَضَاعُوا ، وَرَعَيْتَ مَا أَهْمَلُوا ، وَصَبَرْتَ إِذْ جَزِعُوا ، فَأَدْرَكْتَ آثَارَ مَا طَلَبُوا ، وَنَالُوا بِكَ مَا لَمْ يَحْتَسِبُوا . كُنْتَ عَلَى الْكَافِرِينَ عَذَابًا صَبًّا ، وَلِلْمُسْلِمِينَ غَيْثًا وَخِصْبًا ، فَطِرْتَ بِغِنَاهَا وَفُزْتَ بِحَيَاهَا ، وَذَهَبْتَ بِفَضَائِلِهَا ، وَأَحْرَزْتَ سَوَابِقَهَا ، لَمْ تُفْلَلْ حُجَّتُكَ ، وَلَمْ يُزَغْ قَلْبُكَ ، وَلَمْ تَضْعُفْ بَصِيرَتُكَ ، وَلَمْ تَجْبُنْ نَفْسُكَ . كُنْتَ كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُهُ الْعَوَاصِفُ وَلَا تُزِيلُهُ الْقَوَاصِفُ . كُنْتَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّنَ النَّاسُ عَلَيْهِ بِصُحْبَتِكَ وَذَاتِ يَدِكَ . وَكَمَا قَالَ : " ضَعِيفًا فِي بَدَنِكَ ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ " . مُتَوَاضِعًا عَظِيمًا عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ ، جَلِيلًا فِي الْأَرْضِ ، لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِيكَ مَهْمَزٌ ، وَلَا لِقَائِلٍ فِيكَ مَغْمَزٌ ، وَلَا فِيكَ مَطْمَعٌ ، وَلَا عِنْدَكَ هَوَادَةٌ لِأَحَدٍ ، الضَّعِيفُ الذَّلِيلُ عِنْدَكَ قَوِيٌّ حَتَّى تَأْخُذَ لَهُ بِحَقِّهِ ، وَالْقَوِيُّ الْعَزِيزُ عِنْدَكَ ذَلِيلٌ حَتَّى يُؤْخَذَ مِنْهُ الْحَقُّ ، وَالْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ . شَأْنُكَ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ ، وَالرِّفْقُ قَوْلُكَ . فَأَقْلَعْتَ وَقَدْ نُهِجَ السَّبِيلُ ، وَاعْتَدَلَ بِكَ الدِّينُ ، وَقَوِيَ الْإِيمَانُ ، وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ، فَسَبَقْتَ وَاللَّهِ سَبْقًا بَعِيدًا ، وَأَتْعَبْتَ مَنْ بَعْدَكَ إِتْعَابًا شَدِيدًا . وَفُزْتَ بِالْجَنَّةِ ، وَعَظُمَتْ رَزِيَّتُكَ فِي السَّمَاءِ ، وَهَدَّتْ مُصِيبَتُكَ الْأَنَامَ - فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . رَضِينَا عَنِ اللَّهِ قَضَاءَهُ ، وَسَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ ، فَلَنْ يُصَابَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِكَ أَبَدًا . كُنْتَ لِلدِّينِ عُدَّةً وَكَهْفًا ، وَلِلْمُسْلِمِينَ حِصْنًا وَفَيْئَةً وَأُنْسًا ، وَعَلَى الْمُنَافِقِينَ غِلْظَةً وَغَيْظًا ، فَأَلْحَقَكَ اللَّهُ بِنَبِيِّهِ ، وَلَا حَرَمَنَا اللَّهُ أَجْرَكَ ، وَلَا أَضَلَّنَا بَعْدَكَ . ¤ قَالَ : وَسَكَتَ النَّاسُ حَتَّى قَضَى كَلَامَهُ . ثُمَّ بَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا : صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ الْكُرْدِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسید بن صفوان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو انہیں ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا ، مدینہ منورہ میں آہ و زاری شروع ہو گئی ، لوگ اسی طرح پریشان ہو گئے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ہوئے تھے ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آج نبوت کی خلافت منقطع ہو گئی ہے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے دروازے پر آ کر ٹھہر گئے جس گھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی میت رکھی ہوئی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص تھے اور سب سے زیادہ خالص ایمان والے فرد تھے سب سے زیادہ پختہ یقین رکھنے والے تھے ، اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے ( دنیا اور لوگوں سے ) سب سے زیادہ بے نیاز تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے ، اسلام کے سب سے زیادہ خیرخواہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے اعتبار سے سب سے زیادہ عمدہ تھے ، مناقب کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت والے تھے ، سبقت لے جانے والے امور کے حوالے سے سب سے زیادہ کثرت والے تھے ، درجہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے اور عادات و اطوار اور طور طریقوں کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تھے ، تو اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف سے اپنے رسول کی طرف سے اور تمام مسلمانوں کی طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے جھٹلایا تھا ، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی اور آپ وہ فرد ہیں کہ جس کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صدیق رکھا ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ” اور وہ جو سچائی لے کے آیا “ اس سے مراد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور جس نے اس کی تصدیق کی اس سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ” جب لوگوں نے کنجوسی کا مظاہرہ کیا ، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، جب لوگ بیٹھے رہے ، تو آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ سخت صورت حال میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، اور اچھے طریقے سے ساتھ رہے ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون پہنچانے کی کوشش کی ، ہجرت میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے ، پریشانی کے مقامات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین بنے ، تو اچھے طریقے سے خلیفہ ثابت ہوئے ، اس وقت جب کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اس طرح قائم رکھا کہ اس طرح کسی نبی کے کسی خلیفہ نے قائم نہیں کیا ہو گا ، جب آپ کے ساتھی کمزور تھے ، تو آپ چاک و چوبند تھے ، جب وہ ہلکے ہو رہے تھے ، تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ کے رسول کے طریقے کو لازم پکڑ لیا ، خواہ یہ بات منافقین کو کتنی ہی بری لگے ، اور کافروں کو کتنا ہی غصہ آئے ، تو جب لوگ پھسل رہے تھے اس وقت آپ نے معاملے کو قائم رکھا اور جب لوگ ٹھہر گئے تھے ، تو آپ نے اللہ کے نور کو جاری رکھا ، مرتبے کے اعتبار سے آپ ان میں سب سے بلند تر تھے اور سب سے زیادہ کم کلام کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ عمدہ کلام کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ طویل خاموش رہنے والے تھے ، سب سے زیادہ بلیغ بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ اچھی بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ بہادر تھے ، سب سے مضبوط یقین رکھنے والے تھے ، سب سے بہتر عمل کرنے والے تھے ، معاملات کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سمجھنے والے تھے ، آپ دین کے لئے پیشوا تھے اور مومنین کے لئے مہربان باپ تھے ، جب وہ لوگ آپ کے عیال بن گئے تھے ، تو آپ نے اس بوجھ کو اٹھایا ، جس کے حوالے سے وہ لوگ کمزور ہو گئے تھے اور اس چیز کی حفاظت کی جس کو وہ ضائع کرنے لگے تھے اور اس چیز کا خیال رکھا جس میں وہ تاخیر کر رہے تھے اور اس وقت آپ نے صبر سے کام لیا ، جب وہ لوگ گریہ و زاری کر رہے تھے اور وہ جو چاہتے تھے اس کے نشانات تک آپ پہنچ گئے اور وہ لوگ آپ کی وجہ سے وہاں تک پہنچے جس کے بارے میں ان کا گمان نہیں تھا ، آپ کافرین کے لئے انڈیلا جانے والا عذاب تھے اور مسلمانوں کے لیے بادل اور ہریالی تھے ، آپ کی فطرت میں بے نیازی تھی ، آپ اس کے کناروں ( یا اس کے زیادہ تر حصے ) کے ذریعے کامیاب ہوئے ، اور اس کے فضائل لے گئے ، آپ نے اس کے سبقت لے جانے والوں کو محفوظ کر لیا ، آپ کی حجت کم نہیں ہوئی ، آپ کا دل ٹیڑھا نہیں ہوا ، آپ کی بصیرت کم نہیں ہوئی ، آپ کا من بزدل نہیں ہوا ، آپ اس پہاڑ کی مانند تھے ، جس کو تیز ہوائیں ہلا نہیں سکتی ہیں اور بجلیاں گرا نہیں سکتی ہیں ، آپ ویسے ہی تھے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک ، اپنے ساتھ کے اعتبار سے ، آپ نے کیا ، یا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جسمانی طور پر کمزور ہے ، لیکن اللہ کے معاملے میں طاقتور ہے ، مسلمانوں کے نزدیک آپ تواضع کرنے والے عظیم فرد تھے ، زمین میں نمایاں حیثیت کے مالک تھے کسی کو آپ کے بارے میں کوئی الجھن نہیں تھی ، کوئی شخص آپ کی برائی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی آپ کے بارے میں کوئی لالچ رکھ سکتا تھا ، آپ کے نزدیک کسی شخص کے لیے زیادتی نہیں تھی ، کمزور اور کمتر حیثیت کا شخص آپ کے نزدیک طاقتور تھا کہ آپ اس کا حق اسے دلوا سکتے تھے ، اور طاقتور نمایاں حیثیت کا شخص ، آپ کے نزدیک کمزور تھا ، جب تک اس سے حق وصول نہیں کیا جاتا ، اس بارے میں قریب کے لوگ اور دور کے لوگ آپ کے نزدیک برابر کی حیثیت رکھتے تھے ، آپ کا معاملہ حق کا سچائی کا تھا ، آپ کے قول میں نرمی پائی جاتی تھی ، جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے ، تو راستہ طے ہو چکا تھا ، دین معتدل ہو چکا تھا ، ایمان قوی ہو چکا تھا ، اللہ کا معاملہ قوی ہو چکا تھا ، خواہ یہ بات کافروں کو بری ہی لگے ، تو اللہ کی قسم ! آپ زبردست سبقت لے گئے اور آپ نے اپنے بعد والوں کو شدید مشکل کا شکار کر دیا ، آپ جنت کے حوالے سے کامیاب ہوئے اور آسمان میں آپ کی ( وفات ) کی تکلیف بڑی سمجھی گئی ، اور آپ کی مصیبت مخلوق تک پہنچ گئی ، تو بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اور بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے اس کے فیصلے کے حوالے سے اس سے راضی ہیں ، اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ، مسلمانوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کے حوالے سے ایسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، جس طرح کی مصیبت کا سامنا آپ کے ( انتقال کی ) وجہ سے کرنا پڑا ہے ، آپ دین کے لئے تیاری اور پناہ گاہ تھے ، مسلمانوں کے لئے قلعہ اور اجتماعیت اور انسیت کا باعث تھے ، منافقین کے لئے سختی اور شدت کا باعث تھے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملائے اور آپ کے اجر سے ہمیں اللہ تعالیٰ محروم نہ رکھے ، اور آپ کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ خاموش رہے ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رونے لگے ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم ہاشمی کردی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14335
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2489)»