حدیث نمبر: 14334
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : قِيلَ لَعَلِيٍّ : أَلَا تَسْتَخْلِفُ ؟ قَالَ : مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَخْلِفُ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالنَّاسِ خَيْرًا ، فَسَيَجْمَعُهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ عَلَى خَيْرِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ کسی کو اپنا جان نشین مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا کہ میں تم پر اپنا جانشین مقرر کروں ، اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان لوگوں کو ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دے گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کے نبی کے بعد ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن ابوحارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2486)»