مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَخْبَرُونِي مَنْ أَشْجَعُ النَّاسِ ؟ قَالُوا : - أَوْ قَالَ : - قُلْنَا : أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : أَمَا إِنِّي مَا بَارَزْتُ أَحَدًا إِلَّا انْتَصَفْتُ مِنْهُ ، وَلَكِنْ أَخْبَرُونِي بِأَشْجَعِ النَّاسِ . قَالُوا : لَا نَعْلَمُ ، فَمَنْ ؟ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، جَعَلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرِيشًا ، فَقُلْنَا : مَنْ يَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِئَلَّا يَهْوِيَ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنْهُ أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ شَاهِرًا بِالسَّيْفِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَهْوِي إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا أَهْوَى إِلَيْهِ ; فَهَذَا أَشْجَعُ النَّاسِ . فَقَالَ عَلِيٌّ : وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَهَذَا نَحَّاهُ وَهَذَا يُتَلْتِلُهُ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : أَنْتَ الَّذِي جَعَلْتَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا ؟ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، يَضْرِبُ هَذَا ، وَيُحَارُّ وَيُتَلْتِلُ هَذَا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمُ ! أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ثُمَّ رَفَعَ عَلِيٌّ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحَيَّتُهُ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَمُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ خَيْرٌ أَمْ أَبُو بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ : أَلَا تُجِيبُونِي ؟ فَوَاللَّهِ لَسَاعَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ مِثْلِ مُؤْمِنِ آلِ فِرْعَوْنَ ، ذَاكَ رَجُلٌ كَتَمَ إِيمَانَهُ ، وَهَذَا رَجُلٌ أَعْلَنَ إِيمَانَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم لوگ مجھے بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے ، راوی کہتے ہیں : یا شاید یہ الفاظ ہیں ۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں نے جس کسی کو بھی مقابلے کے لئے للکارا اسے پسپا کر دیا ، لیکن تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کون ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر ، غزوہ بدر کے دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چھپر تیار کیا ، ہم نے سوچا کہ کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے گا ، تاکہ مشرکین میں سے کوئی شخص آپ کی طرف نہ آ سکے ، تو اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں ہوا ، وہ تلوار سونت کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے رہے ، جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنا چاہتا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف چلے جاتے ، تو وہ سب سے زیادہ بہادر شخص تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا ، کوئی شخص آپ کو دھکے دے رہا تھا اور کوئی شخص آپ کو کھینچ رہا تھا ، اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے ، کیا آپ وہ فرد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہی ہوتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت ہم میں سے کوئی بھی آپ کے قریب نہیں ہوا ، صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور وہ کسی کو مار رہے تھے ، کسی کو پرے کر رہے تھے ، کسی کو کھینچ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے ، تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم پر موجود چادر کو اٹھایا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آل فرعون سے تعلق رکھنے والا کوئی مومن زیادہ بہتر ہے یا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں ؟ تو لوگ خاموش رہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک گھڑی آل فرعون سے تعلق رکھنے والے کسی مومن جیسے فرد سے زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے ایمان کو چھپایا تھا اور ان صاحب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔