مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَاحِيَةٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يُقَبِّلُهُ وَيَقُولُ : بِأَبِي وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا . فَلَمَّا خَرَجَ مَرَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ الْمُنَافِقِينَ . قَالَ : وَقَدْ كَانُوا اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَفَعُوا رُؤُوسِهِمْ ، فَمَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : أَيُّهَا الرَّجُلُ أَرْبِعْ عَلَى نَفْسِكَ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَاتَ ، أَلَمْ تَسْمَعِ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ) ( وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ) ؟ . قَالَ : وَأَتَى الْمِنْبَرَ ، فَصَعِدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ إِلَهَكُمُ الَّذِي تَعْبُدُونَ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ قَدْ مَاتَ ، وَإِنْ كَانَ إِلَهُكُمُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ حَيٌّ لَا يَمُوتُ . ثُمَّ تَلَا : ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ) الْآيَةَ . ¤ ثُمَّ نَزَلَ وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُؤْمِنُونَ بِذَلِكَ ، وَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ ، وَأَخَذَ الْمُنَافِقُونَ الْكَآبَةَ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا كَانَتْ عَلَى وُجُوهِنَا أَغْطِيَةٌ فَكُشِفَتْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے اپنے منہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھا اور آپ کو بوسہ دینے لگے اور یہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی اور موت ، ہر حال میں پاکیزہ ہیں ، جب وہ باہر نکلے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، جو یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا ، اور آپ کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ منافقین کو قتل نہیں کر دیتے ، وہ یہ کہہ رہے تھے : منافقین ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی وجہ سے خوشخبری حاصل کریں گے ، اور اپنے سر اٹھا لیں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور بولے : اے شخص ! اپنے آپ پر ق ابورکھو ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” بے شک تم میت ہو اور بے شک وہ لوگ بھی میت ہیں ۔ “ اور ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا نہیں رکھا ، اگر تم مر جاؤ ، تو کیا وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر کے پاس آئے ، وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی : ” اے لوگو ! اگر سیدنا محمد تمہارے معبود تھے ، جن کی تم عبادت کرتے تھے ، تو تمہارے معبود کا انتقال ہو گیا ہے ، اور اگر تمہارا معبود وہ ہے ، جو آسمان میں ہے ، تو تمہارا معبود زندہ ہے ، اسے موت نہیں آئے گی “ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” محمد صرف رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر وہ منبر سے نیچے اتر آئے ، مسلمانوں نے اس بات کے حوالے سے اطمینان حاصل کیا اور ان کی تسلی ہو گئی اور منافقین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس ذات قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یوں لگتا ہے جیسے ہمارے چہروں پر پردہ تھا ، اور وہ ہٹا دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔