حدیث نمبر: 14277
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيُعَزِّي النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنْ بَعْدِي تَعْزِيَةَ نَبِيٍّ " . ¤ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ : مَا هَذَا ؟ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ بَعْضُنَا بَعْضًا يُعَزِّي بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ، نبی کے حوالے سے تعزیت کریں گے ۔ “ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے اور ایک دوسرے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تعزیت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14277
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7547) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5757)»