حدیث نمبر: 14274
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي ، فَأَضَعُ ثَوْبِي وَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اپنے گھر کے اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تھی اور میرے والد کی قبر تھی ، تو میں سر پر چادر نہیں لیتی تھی اور یہ کہتی تھی : ایک میرے شوہر ہیں اور ایک میرے والد ہیں ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا ، تو اللہ کی قسم ! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر اوڑھ کر رکھتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (202/6)»