حدیث نمبر: 14273
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ - أَوْ أَبِي عَسِيمٍ - قَالَ بَهْزٌ : شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ قَالَ : ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا . قَالَ : فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ . قَالَ : فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ : قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا : فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَغَمَسَ قَدَمَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَهِيلُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ . فَأَهَالُوا عَلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ : أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدنا ابوعسیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بہز نامی راوی کہتے ہیں : انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے ، لوگوں نے یہ کہا: کہ ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں ؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگ ٹولیوں کی شکل میں اندر داخل ہو جاؤ ، پھر وہ لوگ اس دروازے سے داخل ہوتے تھے ، آپ کے لئے دعائے رحمت کرتے تھے ، پھر دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لحد میں رکھا گیا ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے پاؤں میں سے کوئی چیز باقی رہ گئی ہے ، جس کو انہوں نے ٹھیک نہیں کیا ، لوگوں نے کہا: آپ اندر جائیں اور اسے ٹھیک کر دیں ، وہ اندر گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ داخل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھوا اور بولے : اس پر مٹی ڈالو ! انہوں نے وہاں پر مٹی ڈالی ، یہاں تک کہ وہ آپ کی نصف پنڈلیوں تک پہنچ گئے ، پھر وہ باہر آ گئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ تم سب کے مقابلے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات میری ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (81/5)»