حدیث نمبر: 14272
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ ، فَأَفَاقَ وَهِيَ تَمْسَحُ صَدْرَهُ ، وَتَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ قَالَ : " لَا . وَلَكِنْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ ، جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی ، آپ اس وقت سیدہ عائشتہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں اور آپ کے لئے شفاء کی دعا کر رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ سعادت مند رفیق اعلیٰ ، جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام جمحی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف