حدیث نمبر: 14271
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرًا ، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصَابَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِ بِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ - وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا اور لوگوں کی طرف دیکھا ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ اس بات پر خوش ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ، کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی ۔ “ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! میرے بعد جس کسی کو جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑے ، تو وہ میری مصیبت کے حوالے سے اپنی اس مصیبت میں خود کو دلاسہ دے ، جو مصیبت اسے لاحق ہو گی ، کیونکہ میرے بعد میری امت کو میری جدائی جیسی مصیبت کبھی لاحق نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف