حدیث نمبر: 14265
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَاسْتَأْذَنَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : ارْجِعْ فَإِنَّا مَشَاغِيلُ عَنْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَدْرِي مَنْ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ ؟ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ ، ادْخُلْ رَاشِدًا " . فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ . قَالَ : " أَيْنَ جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : لَيْسَ هُوَ قَرِيبٌ مِنِّي ، الْآنَ يَأْتِي . فَخَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْبَابِ : مَا أَخْرَجَكَ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ؟ قَالَ : الْتَمَسَكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا جَلَسَا قَالَ جِبْرِيلُ : سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، هَذَا وَدَاعٌ مِنِّي وَمِنْكَ . ¤ فَبَلَغَنِي أَنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ قَبْلَهُ ، وَلَا يُسَلِّمُ بَعْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ملک الموت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیماری کے دوران آیا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم واپس چلے جاؤ ! کیونکہ ہم ابھی تم سے ملنے کے حوالے سے مصروف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوالحسن ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ؟ یہ ملک الموت ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ) تم کامیابی کے ساتھ اندر آ جاؤ ، جب وہ اندر آئے ، تو اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جبرائیل کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ میرے قریب نہیں ہیں ، ابھی وہ آ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت باہر چلا گیا ، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازے پر کھڑے ہو کر ان سے دریافت کیا : اے ملک الموت تم باہر کیوں آ گئے ہو ؟ اس نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلب کر رہے ہیں ، جب وہ دونوں بیٹھ گئے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے ابوالقاسم ! آپ پر سلام ہو ، یہ میری طرف سے اور آپ کی طرف سے الوداعی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کو سلام نہیں کیا ، اور آپ کے بعد بھی وہ کسی کو سلام نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12708)»