حدیث نمبر: 14264
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، وَهُوَ يَمُدُّ يَدَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا جِبْرِيلُ ، أَيْنَ أَنْتَ ؟ " . ثُمَّ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا جِبْرِيلُ اشْفَعْ لِي عِنْدَ رَبِّي يُهَوِّنْ عَلَيَّ الْمَوْتَ " . فَذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : لَقَدْ سَمِعْتُ مَا لَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ مِنْ جِبْرِيلَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو آپ نے ہاتھ کو بڑھا کر یہ فرمایا : جبرائیل تم کہاں تھے ؟ پھر آپ نے ہاتھ کو بند کر لیا اور پھر اسے پھیلایا ، ایسا چند مرتبہ کیا اور آپ یہی فرما رہے تھے : اے جبرائیل ! میرے پروردگار کی بارگاہ میں میری سفارش کرو کہ وہ مجھ پر موت کو آسان کر دے ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی : کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے وہ بات سنی تھی جو آپ نے نہیں سنی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس وقت یہ کہا: تھا : میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14264
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً