حدیث نمبر: 14266
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَقُلَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنُ مِنِّي ، ادْنُ مِنِّي " . فَأَسْنَدَهُ إِلَيْهِ ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى تُوَفِّيَ ، فَلَمَّا قُضِيَ قَامَ عَلِيٌّ وَأَغْلَقَ الْبَابَ ، وَجَاءَ الْعَبَّاسُ وَمَعَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَامُوا عَلَى الْبَابِ ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ يَقُولُ : بِأَبِي أَنْتَ طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا ، وَسَطَعَتْ رِيحٌ طَيِّبَةٌ لَمْ يَجِدُوا مَثَلَهَا ، فَقَالَ : إِيهًا دَعْ حَنِينًا كَحَنِينِ الْمَرْأَةِ ، وَأَقْبِلُوا عَلَى صَاحِبِكُمْ . قَالَ عَلِيٌّ : أَدْخِلُوا عَلَيَّ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : نَشَدْنَاكُمْ بِاللَّهِ وَنَصِيبِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَأَدْخَلُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ يَحْمِلُ جَرَّةً بِإِحْدَى يَدَيْهِ ، فَسَمِعُوا صَوْتًا فِي الْبَيْتِ : لَا تُجَرِّدُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاغْسِلُوهُ كَمَا هُوَ فِي قَمِيصِهِ ، فَغَسَلَهُ عَلِيٌّ يُدْخِلُ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْقَمِيصِ ، وَالْفَضْلُ يُمْسِكُ الثَّوْبَ عَنْهُ ، وَالْأَنْصَارِيُّ يَنْقُلُ الْمَاءَ ، وَعَلَى يَدِ عَلِيٍّ خِرْقَةٌ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ الْقَمِيصِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی ، آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میرے قریب آ جاؤ ! انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی اس کے بعد وہ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے ، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا ، جب ایسا ہو گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے دروازہ بند کیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے ، ان کے ساتھ جناب عبدالمطلب کی اولاد کے افراد تھے ، وہ لوگ دروازے پر کھڑے ہو گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے ، اور مرنے کے بعد بھی پاکیزہ ہیں ، آپ کی طرف سے پاکیزہ خوشبو اوپر گئی ہے ، ان لوگوں نے اس کی مانند کبھی کوئی چیز نہیں پائی تھی ، پھر انہوں نے کہا: ارے عورتوں کی طرح رونا چھوڑو اور اپنے آقا کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، پھر فضل بن عباس کو میرے پاس بھیجو ، انصار نے کہا: ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں ، اور اللہ کے رسول کی بارگاہ میں ہمیں جو قرب حاصل تھا ، اس کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بھی ایک شخص کو اندر لے جائیں ، ان صاحب کا نام سیدنا اوس بن خولی رضی اللہ عنہ تھا ، انہوں نے مٹکے کو ایک طرف سے اٹھایا ہوا تھا ، انہوں نے گھر میں یہ آواز سنی کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے کپڑے نہ اتارو ، اور تم انہیں کپڑوں میں ہی غسل دے دو ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قمیص کے اندر ہاتھ داخل کر کے آپ کو غسل دیا ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کپڑے کو تھامے ہوئے تھے ، اور انصاری شخص پانی منتقل کر رہا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک کپڑا تھا ، جسے وہ قمیص کے نیچے اپنے ہاتھ کے ساتھ داخل کر رہے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (629)»