مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ : ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا ، فَأَلْقَتْ إِلَيْنَا وِسَادَةً ، وَجَذَبَتِ الْحِجَابَ إِلَيْهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ . ثُمَّ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرَّ بِبَابِي رُبَّمَا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهَا ، فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . قُلْتُ : يَا جَارِيَةُ ، ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ ، وَعَصَبْتُ رَأْسِي ، فَمَرَّ بِي فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا شَأْنُكِ ؟ " . قُلْتُ : أَشْتَكِي رَأْسِي . قَالَ : " أَنَا وَارَأْسَاهُ " . فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ ، فَدَخَلَ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " إِنِّي قَدِ اشْتَكَيْتُ ، وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ ، فَائْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ " . فَأَذِنَّ لَهُ ، فَكُنْتُ أُوصِبُهُ وَلَمْ أُوصِبْ أَحَدًا قَبْلَهُ ، فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبِي إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً ، فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي ، فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا ، فَجَاءَ عُمَرُ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَاسْتَأْذَنَا ، فَأَذِنْتُ لَهُمَا ، وَجَذَبْتُ الْحِجَابَ ، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ : وَاغَشْيَاهُ ! مَا أَشَدَّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُمَرَ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : كَذَبْتَ ، بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعَ الْحِجَابَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ : وَابُنَيَّاهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَاصَفِّيَاهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ، وَقَالَ : وَاخَلِيلَاهُ ، مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ . فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ) حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ) الْآيَةَ . مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ . فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ ! ! ! مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ . فَبَايَعُوهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : كَيْفَ تَرَيْنَ ؟ قُلْتُ : غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَدَنَا مِنْهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : يَا غَشْيَاهُ ! مَا أَكُونُ هَذَا الْغَشْيَ ! ثُمَّ كَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَعَرَفَ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، ثُمَّ بَكَى فَقُلْتُ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ انْقِطَاعُ الْوَحْيِ ، وَدُخُولُجِبْرِيلَ بَيْتِي ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صُدْغَيْهِ ، وَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَبَكَى حَتَّى سَالَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ غَطَّى وَجْهَهُ ، وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : لَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، أَعْنَدَكَ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْمَوْتِ وَقَدْ قَالَ لَهُمْ : " إِنِّي مَيِّتٌ وَإِنَّكُمْ مَيِّتُونَ " . فَضَجَّ النَّاسُ وَبَكَوْا بُكَاءً شَدِيدًا ، ثُمَّ خَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَغَسَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَغْسِلْهُ إِلَّا قُلِبَ لِي حَتَّى أَرَى أَحَدًا ، فَأَغْسِلُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَرَى أَحَدًا حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ كَفَّنُوهُ بِبُرْدٍ يَمَانِيٍّ أَحْمَرَ وَرَيْطَتَيْنِ قَدْ نِيلَ مِنْهُمَا ، ثُمَّ غُسِّلَ ، ثُمَّ أُضْجِعَ عَلَى السَّرِيرِ ، ثُمَّ أَذِنُوا لِلنَّاسِ ; فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَوْجًا فَوْجًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِالْمَدِينَةِ - حُرٌّ وَلَا عَبْدٌ - إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ . ¤ ثُمَّ تَشَاجَرُوا فِي دَفْنِهِ أَيْنَ يُدْفَنُ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : عِنْدَ الْعُودِ الَّذِي كَانَ يُمْسِكُ بِيَدِهِ ، وَتَحْتَ مِنْبَرِهِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فِي الْبَقِيعِ ; حَيْثُ كَانَ يَدْفِنُ مَوْتَاهُ . فَقَالُوا : لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ أَبَدًا ، إِذًا لَا يَزَالُ عَبْدُ أَحَدِكُمْ وَوَلِيدَتُهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ فَيَلُوذُ بِقَبْرِهِ فَتَكُونُ سُنَّةً ، فَاسْتَقَامَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يُدْفَنَ فِي بَيْتِهِ تَحْتَ فِرَاشِهِ حَيْثُ قَبْضُ رُوحِهُ . ¤ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ دُفِنَ مَعَهُ ، فَلَمَّا حَضَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمَوْتَ أَوْصَى قَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي إِلَى بَابِ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقُولُوا لَهَا : هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : أَدْخُلُ أَوْ أَخْرُجُ ؟ قَالَ : فَسَكَتَتْ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَتْ : أَدْخِلُوهُ فَادْفِنُوهُ ، أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ . قَالَتْ : فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ أَخَذَتِ الْجِلْبَابَ فَتَجَلْبَبَتْ بِهِ . قَالَ : فَقِيلَ لَهَا : مَا لَكِ وَلِلْجِلْبَابِ ؟ قَالَتْ : كَانَ هَذَا زَوْجِي ، وَهَذَا أَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ تَجَلْبَبْتُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . ¤یزید بن بابنوس بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ہم نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھوایا اور پردہ ڈال دیا ، میرے ساتھی نے ان سے حیض والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے دروازے کے پاس سے گزرتے تھے تو آپ کوئی بات ارشاد فرما دیتے تھے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انہیں نفع عطا کرے ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ، تو آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، پھر آپ گزرے آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا ۔ میں نے ( کنیز سے ) کہا: اے لڑکی تم میرے لئے دروازے کے پاس تکیہ رکھ دو ، میں نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، آپ نے دریافت کیا : اے عائشہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے سر میں درد کی شکایت ہے ، ہائے سر کا درد ( اس کا بامحاروہ ترجمہ ہو گا ، ہائے میں مر گئی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے ، تو آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ، آپ اندر آئے ، آپ نے اپنی دیگر ازواج کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : میں بیمار ہو گیا ہوں ، اور اب میں یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ تم لوگوں کے ہاں جاؤں ، تو تم مجھے اجازت دو کہ میں عائشہ کے ہاں ٹھہر جاؤں ، تو ان خواتین نے آپ کو اجازت پیش کر دی ، میں آپ کی بیماری کے دوران آپ کی دیکھ بھال کرنے لگی ، حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی بیمار کی دیکھ بھال نہیں کی تھی ، ایک دن آپ کا سر میرے کندھے پر تھا ، اسی دوران آپ کا سر میرے سر کی طرف ڈھلک گیا ، تو مجھے یہ اندازہ ہوا کہ شاید آپ کو میرے سر میں کچھ کرنا ہے ، آپ کے منہ سے ایک ٹھنڈا نطفہ نکلا اور میرے سینے کے اوپر آ کے گرا ، جس سے میری جلد پر کپکپی طاری ہو گئی ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ پر بے ہوشی طاری ہو رہی ہے ، میں نے آپ پر کپڑا ڈال دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ آئے ، ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے انہیں اجازت دی ، اور میں نے پردہ کھینچ لیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولے : یہ تو بے ہوشی ہے ، اللہ کے رسول پر کیسی شدید بے ہوشی طاری ہوئی ہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے ، جب وہ دروازے کے پاس پہنچے تو مغیرہ نے کہا: اے عمر ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو ، تم ایک ایسے شخص ہو کہ آزمائش تم سے مل گئی ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہیں کر دیتا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے پردہ ہٹایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور پھر کہا: بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ، پھر وہ سرہانے کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا : ہائے افسوس ، پھر انہوں کہا: ہائے نبی پر افسوس ہے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر یہ فرمایا : منتخب شدہ فرد ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا اور پھر آپ کی پیشانی کو بوسہ دے کر کہا: ہائے خلیل ! اور افسوس ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، پھر وہ مسجد کی طرف گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور بات چیت کر رہے تھے ، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہیں کر دیتا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ” بے شک تم میت ہو ، اور وہ لوگ بھی میت ہیں ۔ “ انہوں نے یہ آیت پوری پڑھی ، پھر یہ آیت پڑھی : ” محمد صرف رسول ہیں ، اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ، اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں ، تو کیا تم ایڑیوں کے بل گھوم جاؤ گے ؟ “ ۔ ( پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے ، اسے موت نہیں آئے گی ، اور جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت اللہ کی کتاب میں موجود تھی ، لیکن مجھے یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو ! یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم ان کی بیعت کر لو ، تم ان کی بیعت کر لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے قریب آئے ، آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پھر بولے : ہائے کیسی بے ہوشی ہے ، کاش یہ بے ہوشی مجھ پر طاری ہوتی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور انہیں آپ کی موت کا اندازہ ہو گیا ، تو انہوں نے کہا: بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، پھر وہ رونے لگے ، میں نے کہا: اللہ کی راہ میں وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کا میرے گھر آنا منقطع ہو گیا ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور اپنی پیشانی پر رکھا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کے آنسو بہتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر آئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ڈھانپ دیا ، اور لوگوں کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ رور ہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں ! پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور بولے : اے عمر ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے حوالے سے تمہارے پاس کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے عمر ! کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، انہوں نے موت کا ذائقہ چکھ لیا ہے ، اور انہوں نے لوگوں سے کہا: کہ میں مرنے والا ہوں ، اور بیشک تم لوگ بھی مرنے والے ہو ، تو لوگ چیخ و پکار کرنے لگے اور شدید روئے ، پھر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر والوں کے لئے چھوڑ دیا ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے ، یہاں تک کہ جب اس سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ یمنی چادر میں کفن دیا اور دو چادروں میں دیا ، جو اس میں سے لی گئیں تھیں ، ان دونوں کو دھویا گیا ، پھر آپ کو پلنگ پر لٹا دیا گیا ، پھر لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی گئی ، لوگ گروہوں کی شکل میں اندر آنے لگے ، اور کسی امام کے بغیر آپ کے لئے دعائے رحمت کرنے لگے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں کوئی بھی آزاد یا غلام ایسا نہیں رہا ، جس نے آپ کی نماز جنازہ ادا نہ کی ہو ( یا آپ کے لئے دعائے رحمت نہ کی ہو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ؟ کسی نے کہا: اس لکڑی کے پاس ، جس کو آپ اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے یا آپ کے منبر کے نیچے موجود ہے ، کسی نے کہا: آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے ، جہاں آپ اپنے مرحومین کو دفن کرتے تھے ، کچھ لوگوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے ، کیونکہ پھر ایسا ہو گا کہ کسی غلام یا کنیز کا آقا اس پر غصے ہو گا ، تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی پناہ لے گا ، اور یہ چیز معمول بن جائے گی ، پھر ان لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر میں ، آپ کے بستر کے نیچے ہی دفن کیا جائے ، جہاں آپ کی روح قبض ہوئی تھی ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو انہیں آپ کے ساتھ دفن کیا گیا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا ، تو انہوں نے یہ وصیت کی : کہ جب میں مر جاؤں ، تو میری میت اٹھا کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے کے پاس لے جانا ، اور ان سے یہ کہنا کہ یہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، اور یہ کہہ رہا ہے کہ کیا میں اندر آ جاؤں ؟ یا باہر چلا جاؤں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ دیر خاموش رہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : انہیں اندر داخل کرو اور انہیں ان کے ساتھ دفن کر دو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہاں دفن کر دیا گیا ، تو میں ( حجرے میں داخل ہوتے وقت ) چادر اوڑھ لیا کرتی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : آپ چادر کیوں اوڑھتی تھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : پہلے وہاں میرے شوہر تھے ، اور ایک میرے والد تھے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا ، تو میں نے چادر اوڑھنا شروع کر دی ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ متروک ہے ۔