مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ فَلَدُّوهُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا . وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ . قَالُوا : كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيَقْذِفَنِي بِهِ ، لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ لَا يَلِدُّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . يَعْنِي الْعَبَّاسَ قَالَتْ : لَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا ، آپ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی ، آپ کی ازواج نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ آپ کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، انہوں نے آپ کے منہ میں دوا ٹپکائی ، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا : یہ کس نے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ان خواتین نے کیا ہے جو اس طرف سے آئی ہیں ، انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں آپ کو ذات الجنب کی شکایت نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا ، اب گھر میں موجود شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، البتہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس دن اپنے منہ میں دوا ٹپکائی ، حالانکہ وہ روزہ رکھے ہوئے تھیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کی وجہ سے ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الخلافہ میں گزر چکی ہے ۔