مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ تَخْيِيرِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ باب: نبی اکرم ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جانا
عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ، فَانْطَلِقْ مَعِي " . فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ ، لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ : أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا ، الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ، ثُمَّ الْجَنَّةَ ، وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْجَنَّةِ " . قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ، ثُمَّ الْجَنَّةَ . قَالَ : " لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي ، ثُمَّ الْجَنَّةَ " . ¤ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ . فَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حِينَ أَصْبَحَ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابومویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف رات کے وقت مجھے بھیجا ، آپ نے فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں ، تو تم میرے ساتھ چلو ، میں آپ کے ساتھ روانہ ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان پہنچے تو آپ نے فرمایا : ” اے قبرستان والو ! تم پر سلامتی نازل ہو ، تم لوگ جس صورت حال میں ہو ، اس کے حوالے سے تمہیں مبارک باد ہے ، اس چیز کے مقابلے میں جس میں لوگ مبتلاء ہیں ، اگر تم یہ بات جان لو ! کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات عطا کر دی ہے ، فتنے یوں آئیں گے ، جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں اور ان میں بعد والا ، پہلے والے کے پیچھے آ جائے گا ، اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہو گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے دنیا کے خزانوں اور ہمیشہ دنیا میں رہنے اور پھر جنت میں چلے جانے کی کنجیاں عطا کی گئیں ، پھر مجھے اس بارے میں ( یعنی دنیا میں ہمیشہ رہنے ) اور پروردگار کی بارگاہ حاضر ہونے ( یعنی ابھی انتقال کر جانے ) اور پھر جنت میں چلے جانے کے درمیان اختیار دیا گیا “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ دنیا اور اس میں ہمیشہ رہنے اور پھر جنت ( میں چلے جانے ) کی چابیاں حاصل کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اسے ابومویہبہ ! میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری پھر جنت ( میں چلے جانے ) کو اختیار کرتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر آپ واپس تشریف لے گئے ، تو آپ کی اس بیماری کا آغاز ہوا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا ۔