حدیث نمبر: 14233
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ الْعَبَّاسُ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا يُظِلُّكَ ؟ قَالَ : " لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي ، وَيُنَازِعُونَ رِدَائِي ، حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ يُرِيحُنِي مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کتنا عرصہ باقی رہیں گے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی عریش ( چھت والی جگہ ) بنا لیں ، جو آپ پر سایہ کیا کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں لوگوں کے درمیان رہوں گا ، وہ میری ایڑی پر پاؤں ماریں ، میری چادر کو کھینچیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن سے نجات دلا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2466)»