حدیث نمبر: 14232
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَانْقَطَعَ شِسْعُهُ ، فَأَخَذْتُ نَعْلَهُ لِأُصْلِحَهَا ، فَأَخَذَهَا مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : " إِنَّهَا أَثَرَةٌ ; وَلَا أَحِبُّ الْأَثَرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عامر بن ربیعہ ہی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں جانے کے لئے نکلا ، آپ کا تسمہ ٹوٹ گیا ، میں نے آپ کا تسمہ لیا ، تاکہ میں ٹھیک کروں ، تو آپ نے میرے ہاتھ سے وہ لے لیا اور فرمایا : یہ ترجیحی سلوک ہے ، میں ترجیحی سلوک کو پسند نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2468)»