حدیث نمبر: 14212
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يُنَاجِيهِ ، إِذِ انْشَقَّ أُفُقُ السَّمَاءِ ، فَأَقْبَلَ جِبْرِيلُ يَدْنُو مِنَ الْأَرْضِ وَيَتَمَايَلُ ، فَإِذَا مَلَكٌ قَدْ مَثُلَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، يَأْمُرُكَ رَبُّكَ أَنْ تَخْتَارَ بَيْنَ نَبِيٍّ عَبْدٍ أَوْ مَلِكٍ نَبِيٍّ ؟ فَأَشَارَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ بِيَدِهِ : أَنْ تَوَاضَعْ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لِي نَاصِحٌ ، فَقُلْتُ : عَبْدٌ نَبِيٌّ ، فَعَرَجَ ذَلِكَ الْمَلَكُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا ، فَرَأَيْتُ مِنْ حَالِكَ مَا شَغَلَنِي عَنِ الْمَسْأَلَةِ ، فَمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا إِسْرَافِيلُ خَلَقَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَافًّا قَدَمَيْهِ ، لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ سَبْعُونَ نُورًا ، مَا مِنْهَا نُورٌ يَكَادُ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ ، بَيْنَ يَدَيْهِ لَوْحٌ ، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي شَيْءٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ فِي الْأَرْضِ ارْتَفَعَ ذَلِكَ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ فَيَنْظُرُ ، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِي أَمَرَنِي بِهِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مِيكَائِيلَ أَمَرَهُ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مَلَكِ الْمَوْتِ أَمَرَهُ بِهِ . قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ أَنْتَ ؟ قَالَ : عَلَى الرِّيحِ وَالْجُنُودِ . قُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مِيكَائِيلُ ؟ قَالَ : عَلَى النَّبَاتِ وَالْقَطْرِ . قُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مَلَكُ الْمَوْتِ ؟ قَالَ : عَلَى قَبْضِ الْأَنْفُسِ ، وَمَا ظَنَنْتُهُ إِلَّا لِقِيَامِ السَّاعَةِ . وَمَا الَّذِي رَأَيْتَ مِنِّي إِلَّا خَوْفًا مِنْ قِيَامِ السَّاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَكِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے ، وہ آپ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آسمان کا افق کھل گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین کی طرف قریب ہونے لگے اور اِدھر اُدھر مائل ہونے لگے ، تو اسی دوران ایک فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کے پروردگار نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ آپ ” عبد “ نبی بننے ، یا ” بادشاہ “ نبی بننے کے درمیان کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، مجھے علم تھا کہ وہ میرے خیرخواہ ہیں ، میں نے کہا: ” عبد “ نبی بننا چاہوں گا ، تو وہ فرشتہ آسمان کی طرف بلند ہوا ، میں نے کہا: اے جبرائیل ! میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ تم سے اس بارے میں دریافت کروں ، تو تمہاری صورت حال جو میں نے دیکھی ، تو اس وجہ سے میں پوچھ نہیں پایا ، اے جبرائیل ! یہ کون تھا ؟ تو جبرائیل نے بتایا کہ یہ سیدنا اسرافیل علیہ السلام تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دن پیدا کیا تھا ، جب اس نے انہیں پیدا کیا تھا ، تو انہیں اپنے آگے پیدا کیا تھا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر بھی آگے نہیں دیکھا ، ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان ستر نور ہیں ، ان میں سے ہر ایک نور ایسا ہے کہ اگر اس کے قریب ہونے کی کوشش کی جائے ، تو آدمی جل جائے ، ان کے آگے لوح ہے ، جب اللہ تعالیٰ آسمان میں یا زمین میں کسی چیز کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے ، تو یہ بلند ہوتے ہیں اور اپنی پیشانی ہلا کے دیکھتے ہیں ، اگر وہ کام مجھ سے متعلق ہوتا ہے ، تو مجھے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اور اگر وہ میکائیل سے متعلق ہوتا ہے ، تو اسے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اگر وہ ملک الموت سے متعلق کوئی کام ہوتا ہے ، تو اسے ہدایت دیتے ہیں ، میں نے کہا: اے جبرائیل ! تم کس چیز پر مقرر ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : ہوا پر اور جنود پر ، میں نے کہا: میکائیل کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نباتات پر اور بارش پر ، میں نے دریافت کیا : ملک الموت کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جان قبض کرنے پر ، اور ان کے بارے میں ( یعنی اسرافیل کے بارے میں ) میرا یہ خیال ہے کہ وہ قیامت قائم کرنے پر مقرر ہیں ، اور آپ نے جو میری صورت حال دیکھی تھی ، وہ اس خوف سے تھی کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12061)»