حدیث نمبر: 14213
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ : إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ الْمَلَكِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ الْمَلَكُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا أَوْ نَبِيًّا مَلِكًا ؟ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَالْمُسْتَشِيرِ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ : أَنْ تَوَاضَعْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا " . فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مُتَّكِئًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک فرشتے کو سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ بھیجا ، اس فرشتے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ یا آپ ” عبد “ نبی بن جائیں یا ” بادشاہ “ نبی بن جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف توجہ کی ، جیسے ان سے مشورہ لے رہے ہوں ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں ” عبد “ نبی بننا چاہوں گا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10686)»