حدیث نمبر: 14211
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَقَدْ هَبَطَ عَلَيَّ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا هَبَطَ عَلَى نَبِيٍّ قَبْلِي ، وَلَا يَهْبِطُ عَلَى أَحَدٍ بَعْدِي ، وَهُوَ إِسْرَافِيلُ ، وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، أَنَا رَسُولُ رَبِّكَ إِلَيْكَ ، أَمَرَنِي أَنْ أُخَيِّرَكَ إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا ؟ فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ : أَنْ تَوَاضَعْ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " لَوْ أَنِّي قُلْتُ : نَبِيًّا مَلِكًا ; لَسَارَتِ الْجِبَالُ مَعِي ذَهَبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا ، وہ مجھ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوا تھا ، اور میرے بعد بھی کسی پر نازل نہیں ہو گا ، اور وہ اسرافیل علیہ السلام ہے ، اس کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام بھی تھے ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو سلام ہو ، میں آپ کے پروردگار کا آپ کی طرف قاصد ہوں ، اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو یہ اختیار دوں کہ اگر آپ چاہیں تو ” عبد “ نبی بن جائیں ، اور اگر چاہیں تو ” بادشاہ “ نبی بن جائیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا ، تو جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ! تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں یہ کہہ دیتا کہ میں ” بادشاہ “ نبی بنوں گا ، تو پہاڑوں نے ” سونے “ کا ہو کر میرے ساتھ چلنا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13309)»