مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَالِثٌ . باب: اس سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ الْمُصَلُّونَ ، وَمَنْ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِي كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَحْتَسِبُ صَوْمَهُ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ مُحْتَسِبًا طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَمِ الْكَبَائِرُ ؟ قَالَ : هِيَ تِسْعٌ ، أَعْظَمُهُنَّ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ ، وَالسِّحْرُ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ ، أَحْيَاءً أَمْوَاتًا ، لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَؤُلَاءِ الْكَبَائِرَ ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ إِلَّا رَافَقَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بُحْبُوحَةِ جَنَّةٍ ، أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ الذَّهَبِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤عبیداللہ بن عمیر لیثی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ کے دوست نمازی ہیں ، جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر لازم کی ہیں اور وہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اور اپنے روزے رکھنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ، اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا ہے ، اور اُن کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہے ، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ( تو ایسے لوگ بھی اللہ کے دوست ہیں ) “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کبیرہ گناہ کتنے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” وہ نو ہیں ، جن میں سب سے بڑا ( گناہ ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ہے ( اور دوسرے کبیرہ گناہ یہ ہیں : ) مؤمن کو ناحق قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، پاکدامن عورت پر الزام لگانا ، جادو کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا ، اور بیت عقیق کی بے حرمتی کرنا ، جو قابل احترام ہے ، اور زندگی اور موت ، ہر حال میں ۔ تمہارا قبلہ ہے ، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ اُس نے ان میں سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو ، اور وہ شخص نماز قائم کرتا ہو ، اور زکوۃ ادا کرتا ہو ، تو ایسا شخص جنت کے درمیان میں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گا ، جس جنت کے دروازوں کے کواڑ سونے کے بنے ہوئے ہیں ، ، ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ روایت کا کچھ حصہ امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔