مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَالِثٌ . باب: اس سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ : تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهْهُ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ وَائِلٌ أَبُو كُلَيْبِ بْنُ وَائِلٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور بولا: اے اللہ کے نبی ! آپ میری رہنمائی ایسے عمل کی طرف کیجئے ، جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور وہ مجھے جہنم سے دور کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے مختصر سوال کیا ہے ، لیکن بڑی بات پوچھ لی ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، تم پانچ نمازیں ادا کرو ، تم رمضان کے روزے رکھو اور جس چیز کے بارے میں تم یہ ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا کریں ، تو اس چیز کو تم بھی اُن لوگوں کے لیے ناپسند کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وائل ابوکلیب بن وائل ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔