حدیث نمبر: 143
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَا أُمِرْتَ ؟ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ " يَعْنِي : الْيَهُودَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الضَّالِّينَ " ، يَعْنِي : النَّصَارَى . قُلْتُ : فَلِمَنِ الْمَغْنَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَهْمٌ ، وَلِهَؤُلَاءِ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِالْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : لَا ، حَتَّى السَّهْمُ يَأْخُذُهُ أَحَدُكُمْ مِنْ جَنْبِهِ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن شقیق نے ” بلقین “ سے تعلق رکھنے والے ، ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی قریٰ میں تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم لوگ نماز ادا کرو ، اور زکوۃ دو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ( یعنی یہودی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جن پر غضب کیا گیا ، میں نے عرض کی : یہ لوگ ( یعنی عیسائی ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یہ وہ لوگ ہیں ) جو گراہ ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مال غنیمت کس کے لیے ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کے لیے ایک حصہ ( یعنی خمس یعنی پانچواں حصہ ) ہو گا ، اور چار حصے لوگوں کے لیے ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : کیا کوئی ایک کسی دوسرے سے زیادہ مال غنیمت کا حقدار ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! یہاں تک کہ جس حصے کو کوئی شخص اپنے پہلو میں لیتا ہے ، وہ بھی اس کے بارے میں کسی دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 143
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 7143 أورده المؤلف فى المقصد العلى 21»