حدیث نمبر: 14173
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : غَدَوْنَا يَوْمًا غَدَاةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كُنَّا فِي مَجْمَعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ آخِذٍ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ حَوْلُهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ " . قَالَ : وَرَغَا الْبَعِيرُ ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيٌّ ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ . قَالَ : فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً ، وَحَنَّ فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ رُغَاءَهُ وَحَنِينَهُ ، فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ : " انْصَرِفْ عَنْهُ ; فَإِنَّ الْبَعِيرَ شَهِدَ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ " . فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ ، وَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي ؟ " . قَالَ : قُلْتُ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ ، اللَّهُمَّ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ ، اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَامٌ ، اللَّهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَبْدَأَهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ مختلف راستے ملنے کی جگہ پر پہنچے ، تو وہاں ہمیں ایک دیہاتی نظر آیا ، جس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی ہوئی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، اس نے کہا: اے نبی ! آپ پر سلامتی نازل ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران اونٹ آوازیں نکالنے لگا ، پھر ایک شخص آیا جو حرسی لگ رہا تھا ، اس حرسی نے کہا: یا رسول اللہ ! اس دیہاتی نے اونٹ چوری کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : وہ اونٹ کچھ دیر آوازیں نکالتا رہا اور روتا رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس کا رونا اور آوازیں سن رہے تھے ، آپ اسے خاموش کروانے لگے ، جب وہ اونٹ پرسکون ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! کیونکہ اس اونٹ نے تمہارے خلاف یہ گواہی دی ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ، تو وہ حرسی واپس چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جب تم میرے پاس واپس آئے تھے ، تو تم نے کیا کہا: تھا ؟ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا: میں نے یہ کہا: تھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرما ، یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکت نازل فرما ، یہاں تک کہ برکت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما ، یہاں تک کہ سلامتی باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت فرما ! یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لئے ظاہر کیا اور اونٹ اپنے عذر کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ، اور فرشتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4887)»